بھٹکل 6/ اکتوبر (ایس او نیوز) مینگلور کے قریب پتور پولس نے 8/10 روز پہلے جن دومبینہ چوروں کو گرفتار کیا تھا، خبر ملی ہے کہ 29/ اپریل کو بھٹکل شرالی مندر میں ہوئی چوری کی واردات میں بھی یہی لوگ ملوث ہیں۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پتور کے ایک مندر سے 18 کلو سونے کے زیورات کی بھاری چوری ہوئی تھی، جس کی چھان بین کرتےہوئے پتور پولس نے دو ملزموں کو گرفتار کیا تھا، جنہوں نے پولس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ بھٹکل تعلقہ کے شرالی مندر میں ہوئی چوری کی ایک واردات میں بھی ملوث ہیں۔ گرفتار شدگان کی شناخت منکی کا رہنے والا چندرکانت تمپا پجاری (35) اور ڈوڈابالاپور کا رہنے والا نرسمہا راجو عرف بسوراج (38) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ 29 اپریل کی شب شرالی کے شری ہادی ماستی منے مندر میں قریب ساڑھے پانچ لاکھ مالیت کے زیورات کی چوری ہوئی تھی، اور یہاں چور داخلی دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوتے ہوئے تجوری بھی توڑ ڈالی تھی اور سونے کے زیورات لے کر فرار ہوگئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اس چوری کی واردات میں تین لوگ شامل تھے، جس میں سے اُڈپی کا رہنے والاایک چور چند ماہ قبل بنگلور میں ہوئے ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہوچکا ہے۔
پولس ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق یہ دونوں کنداپور، شری رام پور، چتردرگہ، پتور سمیت دس سے زائد جگہوں پر چوری کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہینڈلگا جیل میں چوری کے الزام میں جب جیل میں بند تھے تو جیل میں ہی ان لوگوں نے چوری کی ایک ٹیم بنائی تھی۔ جیسے ہی یہ لوگ جیل سے رہا ہوئے، ساحلی کرناٹک کو اپنا نشانہ بنایا۔
چندرکانت کے تعلق سے بتایا گیا ہے کہ یہ ملزم 15/20 سال قبل منکی سے ممبئی چلا گیا تھا اور وہیں ایک کینٹین ڈال کر گذربسر کررہا تھا۔ اس بات کی بھی اطلاع ملی ہے کہ اُڈپی کا ان کا ایک ساتھی جب بنگلور میں حادثے میں ہلاک ہوا تو دونوں ملزموں نے اُس کی بیوی کو 33 ہزار روپیہ پہنچایا تھا۔ کیونکہ مبینہچوری کی واردات میں وہ بھی شامل تھا۔
آج جمعرات کو بھٹکل پولس نے عدالت کی اجازت سے پتور جیل سے دونوں ملزموں کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے بھٹکل لے کر آئی اور شرالی کے متعلقہ مندر لے جاکر پنچنامہ مکمل کیا۔